28 اکتوبر 2026 - 17:06
یمن اور سعودی عرب میں کشیدگی برقرار، صنعاء نے اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا

یمن اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی علاقائی کوششوں کے باوجود، یمنی مسلح افواج نے سعودی عرب میں متعدد اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاع دی ہے۔ دوسری جانب صنعاء نے واضح کیا ہے کہ کشیدگی میں کمی کے لیے محاصرہ ختم کرنا، حملے روکنا اور معاوضہ ادا کرنا سمیت اپنے مطالبات کی منظوری ضروری ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، یمن اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے، بالخصوص مکہ معاہدے کے وفد کے ایرانی دارالحکومت تہران کے دورے کے بعد، علاقائی کوششوں کی خبریں سامنے آنے کے باوجود یمنی مسلح افواج نے گزشتہ روز سعودی عرب کے اندر متعدد اہداف پر حملے کیے۔

اخبار الاخبار کے مطابق، ان حملوں میں سعودی دارالحکومت میں وزارتِ دفاع، ملک کے مشرق میں واقع راس التنورہ آئل ریفائنری اور دیگر اہداف شامل تھے۔ یہ کارروائیاں صبح سویرے سے شام تک مختلف مراحل میں جاری رہیں۔

دوسری جانب سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں یمن کے تین ڈرونز کو روک لیا گیا ہے۔

یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے بھی اعلان کیا کہ ان کی افواج نے متعدد فوجی کارروائیاں انجام دیں۔ ان میں اہم ترین کارروائی سعودی وزارتِ دفاع کے ہیڈکوارٹر اور دو فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں کو دو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانا تھا۔ ان کے مطابق، ایک طیارے کو نجران ایئرپورٹ اور دوسرے کو خمیس مشیط کے علاقے میں واقع شاہ خالد ایئر بیس پر نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک ڈرون سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہاں فضائی آمدورفت متاثر ہوئی۔

یمنی مسلح افواج اس سے پہلے بھی دو کارروائیوں کا اعلان کر چکی تھیں۔ پہلی کارروائی میں ریاض شہر کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسری کارروائی میں متعدد ڈرونز کے ذریعے شرق تا غرب خام تیل کی پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشنوں پر حملے کیے گئے۔

کشیدگی میں کمی کے لیے یمن کی شرائط؛ محاصرے کے خاتمے سے معاوضے کی ادائیگی تک

مبصرین نے ان کارروائیوں کو صنعاء اور ریاض کے درمیان حقیقی معنوں میں کشیدگی کم نہ ہونے کی علامت قرار دیا ہے۔ اخبار الاخبار کے مطابق، یمن پہلے ہی کشیدگی میں کمی پر رضامندی کو سعودی حکومت کی جانب سے ان مطالبات کی منظوری سے مشروط کر چکا ہے جنہیں وہ یمنی عوام کے جائز حقوق قرار دیتا ہے۔

ان مطالبات میں محاصرے کا خاتمہ، حملوں کی بندش، سرکاری ملازمین کے حقوق کے معاملے کو حل کرنا، قیدیوں کے اہلِ خانہ کی مشکلات ختم کرنا، سڑکیں دوبارہ کھولنا اور معاوضہ ادا کرنا شامل ہیں۔

یمنی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں امن کی راہ پر واپس آنے کا حقیقی ارادہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق، ریاض میدانِ جنگ میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکا اور اب بھی یمن میں داخلی کشیدگی جاری رکھنے پر اصرار کر رہا ہے۔ یہ صورتِ حال اس مہم کے تناظر میں ہے جسے ’’یمن کی سپیدۂ سحر‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے تازہ پیش رفت میں، گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران جنوبی یمن کے صوبوں سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد کو صوبہ لحج کے مغربی علاقوں اور آبنائے باب المندب کے جنوب میں تعینات کیا گیا ہے۔ اخبار الاخبار کے مطابق، یہ افراد سعودی افسر بدر الحربی کی کمان میں کام کر رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں، سیاسی ذرائع نے اخبار الاخبار سے گفتگو کرتے ہوئے عبرانی ذرائع ابلاغ کی ان خبروں کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب نے کشیدگی کم کرنے کے بدلے یمن کو ایک ارب ڈالر ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

ان ذرائع نے زور دیا کہ ریاض کی جانب سے ایسی خبریں صنعاء کے ردعمل کو جانچنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔

اسی طرح بعض سیاسی اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ کارکنوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب کا ایران سے ثالثی کی درخواست کرنا اور اس کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرنا، ان ذمہ داریوں سے بچنے کی ایک اور کوشش ہے جنہیں ریاض نے اقوام متحدہ کے روڈ میپ کے تحت قبول کیا تھا۔ ان افراد کے مطابق، سعودی عرب ایک بار پھر خود کو یمن پر حملوں اور محاصرے کا ذمہ دار فریق تسلیم کرنے کے بجائے امن کا ثالث ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

آبنائے باب المندب پر واقع پہاڑوں میں یمنی افواج کی پیش قدمی

یمن کے اندر محاذوں پر بھی یمنی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے باب المندب پر واقع کہبوب پہاڑی سلسلے کے وسیع اور اہم تزویراتی علاقوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

ان افواج نے مزید کہا کہ انہوں نے آبنائے باب المندب کے جنوبی جانب سے پیش قدمی کرنے کی سعودی عرب سے وابستہ فوجی دستوں کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔

یمنی مسلح افواج کے مطابق، ان جھڑپوں کے دوران مخالف فریق کے فوجی اجتماع کو متعدد بیلسٹک میزائلوں اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں سعودی عرب سے وابستہ متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ کئی گاڑیاں اور فوجی سازوسامان تباہ ہوگیا۔

دوسری جانب سعودی لڑاکا طیاروں نے ایک بار پھر میون جزیرے پر شدید فضائی حملے کیے۔ اخبار الاخبار کے مطابق، ان طیاروں نے صوبہ تعز کے مغرب میں واقع ساحلی شہر المخا پر بھی متعدد فضائی حملے کیے اور ان میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔

العمالقہ فورسز کی پیش قدمی سے متعلق خبروں کی تردید

دوسری جانب فوجی ذرائع نے اخبار الاخبار سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی عرب کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع ابلاغ کی ان خبروں کو مسترد کیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنوبی یمن سے وابستہ سلفی فوجی تنظیم العمالقہ کے دستے آبنائے باب المندب کے قریب ذوباب ایئرپورٹ کے جنوب مغرب تک پہنچ گئے ہیں۔

ان ذرائع نے وضاحت کی کہ ان ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر کہبوب کے تزویراتی پہاڑوں سے 18 کلومیٹر دور ایک علاقے میں بنائی گئی تھیں۔ یہ علاقہ جنوبی یمن کے صوبہ لحج کے ضلع المضاربہ کے انتہائی مغربی حصے میں واقع ہے۔

ذرائع کے مطابق، العمالقہ فورسز نے ان بعض ٹھکانوں پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کی جنہیں ان کے سیکڑوں اہلکاروں کے السقیعہ کے علاقے، واقع رأس العرارہ، مغربی لحج سے پیچھے ہٹنے کے بعد کھونا پڑا تھا۔

اسی طرح سلفی تنظیم درع الوطن نے بھی کہبوب پہاڑی سلسلے کے مشرقی کنارے پر واقع ان ٹھکانوں کو واپس لینے کی کوشش کی جن پر یمنی مسلح افواج نے قبضہ کر لیا تھا۔ تاہم، مذکورہ ذرائع کے مطابق، یہ کوششیں پیش قدمی میں تبدیل نہ ہو سکیں۔

اس کے برعکس، یمنی مسلح افواج نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے صوبہ لحج کے ساحلی علاقوں میں مزید کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اس صوبے کے وسیع علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جو شہر عدن کے قریب واقع ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha